Friday, 19 July 2013

Energy Policy Waziha Kren...! انرجی پالیسی واضح کریں

چند روز قبل وفاقی وزیر پانی و بجلی جناب خواجہ آصف صاحب نے یہ خوش خبری برملا سنا ئی کہ حکومتی سطح پر لوڈشیڈنگ کے خاتمے کے لئے جنگی بنیادوں پر کام شروع ہو چکا ہے ، تمام آئی پی پیز کو 300 بلین کی ادئیگیاں کی جا چکی ہیں اور رمضان المبارک کے بارکت مہینے میں لوڈشیڈنگ کے دورانیہ میں5 گھنٹے تک کمی کی جائے گی۔ یعنی یہ اعلانات اس مخفی انرجی پالیسی کا حصہ ہیں جو جناب وزیراعظم صاحب نے ہنگامی بنیادوں پرمرتب فرمائی، جس سے لوڈشیڈنگ کے اس جن کو بوتل میں بند کیا جا سکے گااور جس میں عوام کو ریلیف کا واضح موقف درج ہے۔آج وزیر اعظم کو قلم دان سنبھالے دو ماہ کے لگ بھگ ہو گئے ہیں، مگر بدقسمتی سے جس کام کو وہ جنگی بنیادوں پر حل کرنا چاہتے تھے اس کے لئے کوئی لائحہ عمل ا بھی تک منظر عام پر نہیں آیا۔
 قارئین محترم ! آپ خاطر جمع رکھیں۔ ملکی حقائق کا جائزہ لیا جائے تو یہ بات تو مصدقہ حقیقت ہے کہ بجلی کا مسئلہ اب اتنی شدت اختیا ر کر گیا ہے کہ اس کا فوری حل شاید ہی ممکن ہو سکے ۔ اور اس کے مکمل حل کے لئے شاید موجودہ حکومت کی مدت بھی ناکافی ہے، مگر کہتے ہیں کہ ’دیر آید درست آید۔‘ عوام کو اس بار بھی صبر اور تحمل کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ کیونکہ ڈیموں کے محدود ہونے کی وجہ سے اور پانی کی قلت کے باعث گزشتہ کئی سال سے اب ہماری بجلی کی پیداوار ہمارے پرائمری سورس یعنی پانی پر بہت کم اور متبادل ذرائع یعنی گیس اور ڈیزل پر زیادہ ہے۔ جس کے لئے ہمیں نجی کمپنیوں کا رخ کرنا پڑتا ہے ۔ جس کا ایک نقصان تو یہ ہے کہ ہماری طلب اور رسد میں واضح فرق پیدا ہو گیا ہے جو پورا کرنا موجودہ انفراسٹرکچر میں ممکن نہیں اور دوسرا ہمیں مہنگے داموں یہ بجلی خریدنا پڑتی ہے جس کے ہم اب متحمل نہیں۔جس کے لئے ہمیں انفراسٹرکچر میںتبدیلی لانا ہو گی۔
گیس اور ڈیزل بجلی کی پیداوار کے متبادل اور بہت مہنگے ذرائع ہیں جن سے اگر ہم بجلی پوری کرنے کی کوشش کرتے رہے تو شاید یہ کسی اندھے کنویں میں روپے ڈالنے کے مترادف ہوگا۔اور ہمارا لوڈشیڈنگ فری پاکستان کا خواب کبھی شرمندئہ تعبیر نہ ہوسکے گا۔ ہم ہر سال اپناامدادی کشکول اس کنویں میں انڈیلتے رہیں گے اور مزید آئی ایم ایف کے قرض تلے دبتے چلے جائیں گے اور حالات گزشتہ سے پیش تر ہوتے جائیں گے۔ اس کی کئی وجوہات ہیں ایک تو مہنگا تیل اور ڈیزل جو بجلی کی پیداروار میں خرچ ہوتا ہے جو ہماری استطاعت سے اب کوسوں دور ہیں اور جس کی مد میںبجٹ کا کافی حصہ خرچ ہو جاتا ہے۔اور دوسری طرف یہ تیل مافیہ ہے جو کہ حکومت کو غیر میعاری تیل کی فراہمی کرتی ہے۔ جس سے مطلوبہ پیداوار کا حدف حاصل نہیں ہونے پاتا۔اور لوڈشیڈنگ کے دورانیہ میں بھی گھنٹوں اضافہ دیکھنے کو ملتا ہے۔الغرض، ان عارضی پیداواری مشنری سے نکل کر ہمیں ایک مستقل متبادل ذرائع کی ضرورت ہے۔ پیداوار کے لئے مروجہ سسٹم سے مجوزہ سسٹم تک(یعنی متبادل ذرائع کوئلہ ، پانی، گنے کی پھوک وغیرہ)کا سفر حقیقتاً ضروری ہے، جس میں واقعتا وقت اور پیسہ درکار ہیں۔
ہماری ملک میں بجلی کی طلب 18 ہزار میگا واٹ کے لگ بھگ ہے۔ اور چند ماہ قبل پیدار 12 ہزار کے قریب تھی، مگر گزشتہ ماہ جولائی میں آئی پی پیز کو 300 بلین کی ادائےگیوں کے بعد اس میں ساڑھے تین ہزار میگاواٹ کا اضافہ ہوا ہے اور اب پیداوار 15ہزار تجاوز کر گئی ہے۔اور دوسری طرف اگر لوڈشیڈنگ کے دورانیہ کی بات کی جائے تو پہلے سیر تھی تو اب سوا سیر ہے۔
 لاہور کے مختلف مقامات جس میں شالامار ٹاﺅن ، مغلپورہ ، داروغہ والا، واہگہ ٹاﺅن ، شادباغ، جوہر ٹاﺅن ، اقبال ٹاﺅن، یتیم خانہ، ملتان روڈ اور سبزہ زار کے گردونواں کے علاقے شامل ہیں، میں غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ دیکھنے میں آ رہی ہے، جس کے ساتھ ساتھ سحر اور افطار کے اوقات میں بھی بجلی کی بندش کی وجہ سے لوگ پریشان ہیں اورسراپہ احتجاج ہیں۔
عوامی حقائق کا اندازہ ملک میں کی جانے والی لوڈشیڈنگ کے اوقات سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے ۔ جس کے بعد جناب وزیر پانی و بجلی صاحب کا یہ بیان جو انہوں میں قبل از رمضان پیش کیا تھا کہ ’رمضان المبارک میں لوڈشیڈنگ میں 5 گھنٹے تک کی کمی کی جائے گی جس میں سحر و افطار میں خصوصی طورپر لوڈشیڈنگ نہیں ہو گی‘ بے بنیاد سا لگتا ہے، کیونکہ لوڈشیڈنگ کی صورت حال سے یہ گمان ہوتا ہے کہ جیسے انہوں نے یہ اعلان پاکستانی عوام کے لئے نہیں بلکہ کہیں اور بسنے والوں لوگوں کے لئے کیاہے۔ یا یہ بھی حد امکان ہے کہ شاید وہ یہ بھول رہے ہیں کہ اب نواز شریف صاحب کی حکومت آ چکی ہے۔ وہ اب وفاقی وزیر ہیں اور انہیں اب بڑے بڑے دعوں کو عملی جامہ پہنانا ہے جو وہ ٹی وی پروگراموں میں بیٹھ کر بڑے وثوق و یقین سے کیا کرتے تھے ۔اب انہیں دعوں اور بیان بازی کی بجائے عملی طور پر کوئی اقدام لینا ہوگا تا کہ عوام کو ریلیف مل سکے۔
میری حکومت سے استدعاءہے کہ پہلے ہی مہنگائی ، دہشت گردی سے عوام کی کمر بری طرح زخمی ہو چکی ہے۔ ان کے مزید صبر کا امتحان لینے کی بجائے انہیں ریلیف فراہم کیا جائے جس کے لئے انہوں نے آپ کو ووٹ دے کر ایوانوں تک پہنچایا ہے۔ان کے لئے مستقل اور ٹھوس اقدامات کئے جائیں۔جو ان کے لئے مرہم ثابت ہوسکے ۔ بجلی چوروں کے خلاف سخت کاروائی کی جائے اور بجلی کی پیداوار کے مہنگے ذرائع فوری ترک کر کے متبادل ذرائع دیکھے جائیں، جو سستے اور میعاری ہوں۔اللہ پاک نے ہمارے ملک کو بہت سے وسائل سے مالا مال کیا ہے خدارا انہیں بروئے کار لایا جائے۔ آئی پی پیز کو ادائیگیوں کے باوجود لوڈشیڈنگ دورانیہ کا جائزہ لیا جائے جو کہ 16 گھنٹے سے تجاوز کر چکا ہے۔با لخصوص رمضان المبارک میںسحر و افطار میں لوڈشیڈنگ کا نوٹس لیں اور ذمہ داران کے خلاف سخت کارروائی کا حکم فرمایں۔
 بجلی کا مسئلہ اگر جلد حل نہیں ہو سکتا تو برائے کرم لوڈشیڈنگ کا کوئی واضح شیڈول فراہم کردیں تاکہ غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ سے خلاصی ہو سکے۔ جناب وزیراعظم صاحب سے میری درخواست ہے کہ خدارا واضح انرجی پالیسی کا اعلان کریں، جس انرجی پالیسی کا تذکرہ الیکشن سے قبل کیا جاتا رہا۔ اس کا لائحہ عمل عوام کے سامنے پیش کیا جائے۔اس کا روڈ میپ تشکیل دیا جائے۔ تاکہ عوام اور حکومت میں ہم آہنگی پیدا ہو سکے اور انہیں بھی ملکی مسائل کا ادراک ہو سکے اور یہ بیچارے بھی کوئی نئی امید باندھ سکیں اور سکھ کا سانس لے سکیں

روزنامہ پاکستان ۔ 2013-07-19
http://www.dailypakistan.com.pk/columns/19-Jul-2013/49051

Monday, 17 June 2013

نظام تعلیم کی تجدید کے لئے چند تجاویز

حافظ محمد عثمان

امتحانا ت کا زور اپنے عروج پر ہے۔طلبہ و طالبات ایک طرف شدید گرمی کے باوجود اپنے امتحانات کی تیاری میں خلل سے
 پریشان ہیں تو دوسری طرف لوڈشیڈنگ کے عذاب نے ان معصوموں کا جینا محال کر رکھا ہے۔گرمی اور لوڈشیڈنگ کے ستائے ہوئے طلبہ و طالبات امتحانات کی تیاری میں مگن نظرآتے ہیں اورامتحانات میں اپنے ساتھ ہونے والی ناانصافی کے خوف میں مبتلا بھی ہیں۔ گزشتہ کئی برس سے بورڈ حکام کی جانب سے کی جانے والی غفلت اور ان کے غیر ذمہ دارنہ رویوں سے طلبہ و طالبات سخت نالاں ہیں اور اس فرسودہ نظام تعلیم کے خلاف سراپہ احتجاج ہیں، جس میں غیر شفافیت نمایاں طور پر پائی جاتی ہے۔ہر طالب علم کی خواہش ہے کہ وہ امتحانات میں محنت کرکے اچھے گریڈ میں پاس ہو سکے اور اچھا روزگار تلاش کر سکے،مگر بدقسمتی سے ہمارے ملک میںبرسوں سے وہی پرانی طرز کا ایجوکیشن سسٹم مروج ہے۔وہی پرانا امتحانات کا نظام جس سے طا لب علموں کی حوصلہ شکنی ہو رہی ہے۔
پوری دنیا میں طالب علموں کی صلاحیتوں کی جانچ پڑتال کی جاتی ہے۔ ان میں موجود اہلیت کو اجاگر کیا جاتا ہے اور ان کی درست سمت میں راہنمائی کی جاتی ہے، جس سے طالب علم اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لا کر ملک و قوم کے لئے نئے راستے پیدا کرتا ہے۔ جس سے ٹیکنالوجی کا راستہ ہموار ہوجاتا ہے۔ مزید روزگار کے مواقع ملتے ہیں اور ملک ترقی کی راہوں پر رواں دواں ہوتا ہے۔ ملک میں طلبہ و طالبات کی محنت اور صلاحیتوں کو دیکھا جائے تو یہ گمان ہوتاہے کہ شاید اللہ پاک نے تمام باہنر اور باصلاحیت لوگ ہمارے ہی خطے میں پیدا فرمائے ہیں جو ان محدود وسائل کے ساتھ بھی اپنی محنت کے سبب چمک دمک رہے ہیں ۔ان کی اگر صحیح معنوں میں تربیت کی جائے تو یہ چمن بوئے گل سے مہک اٹھے ،مگر افسوس! اس فرسودہ نظام تعلیم کے ذریعے ہم اس چمن کے قدرتی حسن کو پامال کر رہے ہیں، جو ترقی کے سفر میں ایک بڑی رکاوٹ ہے۔ایک اچھے تعلیمی نظام کے لئے ایک صحت مند طالب علم، ایک ہنرمند استاد، ایک جاندار نصاب اور ایک ایماندار امتحانی نظام کی ضرورت ہوتی ہے۔
صحت مند طالب علم:صحت مند طالب علم سے مراد ایسا طالب علم ہے جو اپنی تعلیم میں اپنی صلاحیتوں سے بھر پور فائدہ اٹھا سکے اور اپنی تمام تر دلچسپیوں کو تعلیم کی طرف مرکوز کر سکے۔ہمارے ہاں صحت مند طلبہ و طالبا ت کا فقدان دیکھنے کو ملتا ہے۔بدقسمتی سے ہمارے ملک میں ہر شعبے کا تعلق طالب علموں میں موجود صلاحیتوں پر نہیں، بلکہ ان کے امتحانات کے نمبروں سے مشروط ہے۔ جس سے زیادہ تر طالبعلم اپنے پسندیدہ شعبے سے محروم ہوجاتے ہیں۔ جو طلبہ کے عزم کو ٹھیس پہنچانے کا پہلا قدم ہے۔مشہور مقولہ ہے کہ”شوق کا کوئی مول نہیں“۔یہ حقیقت ہے کہ انسان اپنی دلچسپی میں تغیر کا اختیار نہیں رکھتا، اگر دوسرے ترقی پذیر ممالک کی طرح ہم بھی اپنے طالب علموں کا رجحان اور قابلیت کا ادراک کر لیں تو میرا خیال ہے بہت سے ہنرمند لوگوں اور قابل لوگوں سے استفادہ کیا جاسکتاہے۔
ہنر مند استاد:ہنر مند استاد سے مراد ایسا استاد ہے جو طالبعلم کی صلاحیتوں کی جانچ پڑتال کر سکے اور اس میں نئے جوہر تلاش کر سکے ۔ہمیں اساتذہ کرام کے خلاف بل پاس کرنے کی بجائے طالبعلموں کو ان کی تعظیم کا درس دینے کی ضرورت ہے۔ مَیں سمجھتا ہوں کہ صوبائی سطح پر اساتذہ حضرات کے لئے ایسی تربیتی ورک شاپس کے انعقاد کی ضرورت ہے، جن کے ذریعے نہ صرف انہیں نصاب اور تعلیم کے جدید ذرائع کے بارے میں بریفنگ دی جائے، بلکہ انہیں طالبعلموں کے ساتھ مثبت رویے کی بھی تلقین کی جائے اور ان میں موجو د اخلاقی اقداروں کو اجاگر کرنے کی بھی تربیت دی جائے ، کیونکہ ایک اچھا استادمعاشرے کے مستقبل کا ذمہ دار ہوتاہے اور میرا خیال ہے اسے اچھے اخلاق ، اعلیٰ اقدار کے ساتھ ساتھ بے مثال نفسیات کا بھی مالک ہونا چاہیے۔
 جاندار نصاب:جاند ملک میں ایک سرکاری نصاب کا تعین کیا جائے جو ہر صوبے میں یکساں طور پر پڑھایا جائے ،تاکہ تعلیم میں تفریق کو ختم کیا جاسکے۔اس نصاب کا انتخاب وفاق کرے اور صوبائی سطحوں پر اس میں ترامیم پر پابندی عائد ہونی چاہیے۔ اس کے لئے ملک میں وفاقی سطح پر ایک نصاب کمیٹی بنانی چاہیے جو تمام صوبوں کے قابل پروفیسروں اور اساتذہ حضرات پر مشتمل ہو اور ملکی حالات کے پیش نظر مناسب اور جامع نصاب تجویز کرے،جس پر صوبائی حکومتیں عمل درآمد کا پورا حق رکھتی ہوں۔اس کے علاوہ صوبائی سطح پر بھی مجلس شوریٰ ہونی چاہیے جو وفاق کی نصاب کی جانچ پڑتال میں معاونت کرسکے۔
ایماندار امتحانی نظام: ایک ایماندار امتحانی نظام سے مراد ایسا امتحانی نظام ہے جس پر پورا ملک متفق ہو اور اپنے اندر غیر جانبداری رکھتا ہو، تاکہ امتحانات کی اس قسم کی نا مناسب چیکنگ سے چھٹکارہ حاصل کیا جاسکے، جس نے ان خستہ حال طلبہ و طالبات کی ناک میں دم کر رکھا ہے۔بچے امتحانات کی تیاری کے لئے دن رات ایک کردیتے ہیں اور جان مار کر تیاری کرتے ہیں، مگر یہ عذاب مقہور اس وقت نازل ہوتا ہے جب ان کے امتحانات کانتیجہ انہیں دست یاب ہوتا ہے۔یہ صرف چند لوگوں کا گروہ ہے جو ایک مافیا کی طرح کام کرتا ہے اور چند روپوں کے لالچ کے عوض بچو ں کا مستقبل داﺅ پر لگادیتا ہے، جس کا گہرا اثر بچوں کے کردار اور ان کی نفسیات پر پڑتاہے اور وہ اپنی محنت کے مطابق رزلٹ نہ پا کر بدظن ہوجاتے ہیںاور معاشرے کے خلاف نہ صرف علم بغاوت بلند کرتے ہیں،بلکہ معاشرے کی منفی اقدار کی دست گاہ بن جاتے ہیں۔ اس کے مناسب حل کے لئے امتحانات کا شعبہ بھی سرکاری طور پر وفاقی حکومت کے ساتھ ہونا چاہیے جو ایک ہی وقت میں پورے ملک میںامتحانات کا انعقاد کروا سکے اور آئے دن پیپر آﺅٹ ہونے کے عذاب سے گلوخلاصی ہوسکے اور صرف انعقاد ہی نہ کروا سکے، بلکہ ان کی شفاف اور ذمہ دارانہ چیکنگ کا بھی بندوبست کرواسکے۔ تعلیمی نظام کی یکسانیت سے اس نظام میں مزید شفافیت آئے گی ۔ اور حقدار طلبہ و طالبات کو ان کا حق مل سکے گا،جس سے طالبعلموں میں تعلیم کا رجحان فروغ پائے گااور عوام کو ان بورڈ مافیہ سے خلاصی مل سکے ،جو چند ٹکوں کے عوض یا با اختیار لوگوں کے دست شفقت پر معصوم بچوں کے مستقبل کے ساتھ کھیلتی ہے اور غیر ذمہ دارنہ اور غیر سنجیدگی کا مظاہرہ کرتی ہے۔



مختصر تعلیم ہر انسان کا بنیادی حق اور حکومت کا اولین فرض ہے۔حکومت کو تعلیمی لحاظ سے ایسی جدوجہد کرنا ہو گی، جس سے ملک میں تعلیم کے بحران پر بھی قابو پایا جاسکے اور اس فرسودہ نظام تعلیم کی تجدید نو کی جائے ،تاکہ ہر طالب علم کو اس کا منا سب حق مل سکے اور جو غریب لوگ ہیں وہ بھی تعلیم کے زیور سے آراستہ ہو کر اپنے لئے روزگار کی راہیں ہموار کر سکیں۔ ٭

Related Posts Plugin for WordPress, Blogger...